ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اجتماعی کوششوں سے ہی مسلمانوں کی مجموعی ترقی ممکن:محمد محسن

اجتماعی کوششوں سے ہی مسلمانوں کی مجموعی ترقی ممکن:محمد محسن

Tue, 06 Sep 2016 11:57:35    S.O. News Service

اُردو اکیڈمی کے ’’ان سے ملیئے‘‘ پروگرام سے خطاب

اُردو صحافیوں کو حدبندیوں کے تحت کام کرنا پڑتا ہے:منیرآزاد

بنگلورو۔5؍ ستمبر(ایس او نیوز) محکمۂ اقلیتی بہبود ، حج وپسماندہ طبقات کے سکریٹری محمد محسن آئی اے ایس نے مسلمانوں کو آواز دی کہ وہ مجموعی ترقی کے لئے اجتماعی کوششوں کے ساتھ آگے بڑھیں ۔ حکومت پر تکیہ کئے بغیر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش ہمیشہ جاری رکھیں۔ انہوں نے آج دارالسلام بفٹ ہال میں کرناٹک اُردو اکیڈمی کے ماہانہ ’’ان سے ملئیے‘‘ پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ اُردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے کی بجائے اُردو کا ایک سبجکٹ ضرور پڑھیں تاکہ ہماری زبان اور تہذیب کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اگر سرکاری ملازمت حاصل کرنی ہوتو علاقائی زبان پر عبور حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم بڑی ڈگری رکھنے کے باوجود علاقائی زبان سے ناواقف ہوں تو سرکاری ملازمت کا تصور ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔ محسن نے کہا کہ اگر ملّت کے احباب انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کے ساتھ کام کریں تو ملّت کا ہر مسئلہ حل ہوتا دکھائی دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق بہار کے پٹنہ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم پٹنہ میں ہوئی تھی ڈگری کے بعد انہو ں نے یوپی ایس سی جیسے مسابقتی امتحان میں حصہ لیتے ہوئے کافی جدوجہد اور کوششوں سے پڑھائی کی اور اپنے والدین اور بزرگوں کی دعاؤں سے آئی اے ایس امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ غریب طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود اونچے عزائم ، کچھ حاصل کرنے کا جذبہ ، لگن ، تڑپ ۔ نے انہیں اپنے خواب کو شرمند�ۂ تعبیر کرنے میں کوئی رکاوٹیں حائل نہیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے آئی اے ایس میں کامیابی پر آبائی شہر میں کافی خوشیاں منائی گئیں۔ محسن نے بتایا کہ ان کی پہلی پوسٹنگ کرناٹک میں ہی ہوئی تھی۔ وہ اہم عہدوں پر فائز رہے اور جہاں کہیں بھی گئے انہوں نے ایمانداری سے بلا تفریق لوگوں کی خدمت کی ہے۔ انہو ں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران متعصبانہ رویہ نہیں اپنایا۔ ہر ایک کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنے کو اولین ترجیح دی ۔ انہوں نے بتایا کہ جس محکمہ میں بھی انہیں خدمت کا موقع ملا ذمہ داری بخوبی انجام دیتے ہوئے محکمہ کی ترقی کے لئے پہل کی ہے۔ انہوں نے کافی اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا کہ انہیں کرناٹک میں ایک بہتر ماحول فراہم ہوا ہے۔ محسن نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی بھی پوسٹ کے لئے کبھی بھی کسی سے سفارش نہیں کی حکومت نے جس محکمہ میں اور جس علاقہ میں انہیں عوامی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا اس کو بخوبی انجام دیتے آئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اپنی خدمات قوانین کے دائرہ میں رہ کر پوری ایمانداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ والدین اور بزرگوں کی دعاؤں کا نتیجہ کہ وہ اپنی 20؍ سالہ سرکاری ملازمت کے دوران بے داغ اپنی ڈیوٹی انجام دی ہے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ڈیوٹی اسی طرح انجام دیتے ہوئے خدمتِ خلق جاری رکھیں گے۔ ان سے عوام کو جوامیدیں ہیں انہیں بلا تفریق کوشش کریں گے۔ اس موقع پرمحمد محسن نے اپنے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ بہارسے دور ہیں یہاں کے عوام کی محبت اور دوستانہ ماحول نے انہیں اسی ریاست میں خدمت کا موقع فراہم کیا ہے۔ تعلیمی میدان میں لڑکوں کو ڈاکٹر ، انجینئر بننے کی بجائے مسابقتی امتحانات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں کئی اسکیمیں ہیں انہیں مستحق افراد تک پہنچانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر محمد محسن نے اُردو اکیڈمی کے اس پروگرام کے انعقاد پر اکیڈمی کے چیرمین عزیز اللہ بیگ سمیت تمام اراکین کو مبارکباد پیش کی۔ صدارتی خطاب میں کرناٹک اُردو اکیڈمی کے چیرمین عزیز اللہ بیگ نے محمد محسن آئی اے ایس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکثر سرکاری افسران اس طرح کی مجالس سے کافی دور رہا کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اپنی ابتدائی تعلیم مسابقتی امتحانات میں شرکت اور اپنی فرض شناس خدمات اپنے تجربات کی روشنی میں جو تفصیلات عوام الناس کے روبرو پیش کی ہیں ودیگر احباب کے لئے نمونہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محمد محسن پر اعتماد کرتے ہوئے جو اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں وہ انہیں بخوبی انجام دیتے آرہے ہیں جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ عزیز اللہ بیگ نے کہا کہ ملّت اسلامیہ کو متحدہ طور پر اپنے مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ دور اندیشی کے ساتھ تجربات اور خیالات کو سامنے رکھ کر یکجہتی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ ادارہ ریاست کے مسلمانوں کے مفادات کے لئے قائم کیاگیا ہے صرف اوقافی املاک کے تحفظ کے لئے نہیں۔ اوقافی املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی ملت اسلامیہ کے بچوں کی تعلیم وتربیت پر صرف کرتے ہوئے حقیقی حقداروں تک پہنچانے کا کام کرنا چاہئے۔ مہمان اعزازی منیراحمد آزاد چیف رپورٹر روزنامہ سالار نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کیریئر کا آغاز وکالت کے پیشہ سے کیا۔ لیکن ان کی والدہ کو یہ پیشہ پسندنہیں تھا اس لئے مدیراعلیٰ سالار جناب میر مقصود علی خان مرحوم کی ایماء پر 1994ء میں روزنامہ سالار سے منسلک ہوگئے۔ صحافتی پیشہ کو اختیا رکرنے کے بعد خوب شہر ت حاصل کی اور ایسے ایسے مقامات جیسے محکمہ دفاع اور ریسرچ سنٹرس کا معائنہ کرنے کا موقع ملا جو ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ حالانکہ اُردو اخبار آزاد نہیں۔ ان اخباروں میں صحافیوں کے لئے بہت ساری پابندیاں اور بندیشیں ہوتی ہیں ۔ یہاں تحقیقاتی خبریں شائع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ صحافیوں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے اس کے باوجود اُردو اخبار ملّت اسلامیہ کے ترجمان ہیں اور ملّت اسلامیہ کی ترجمانی کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اُردو اکیڈمی کے ذریعے شروع کئے گئے ان سے ملیئے پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مختلف شعبۂ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے کا میاب لوگوں کی زندگی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا یہ ایک اچھا پلیٹ فارم ہے۔ جلسہ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مبین منور نے نعت پاک پیش کی۔ ’’ان سے ملیئے‘‘ پروگرام کے کنوینر واکیڈمی کے رکن شرف الدین سید نے کہا کہ اکیڈمی کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ ریاست کرناٹک میں اُردو زبان کی بقا وسلامتی کے لئے ایک طریقہ کار اپنایا جائے۔ جس کے لئے ہر ضلع میں مختلف پروگرامس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔اکیڈمی کے رجسٹرار سراج احمد خالد نے مہمانوں کا تعارف کرایا۔ جبکہ اکیڈمی کے رکن ملنسا راطہر احمد نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ تقریب میں محبان اُردو کی بڑی تعداد موجود تھی۔


Share: